2026-09-12
سورج کے سائے سے قبلہ معلوم کرنا: سال کے دو دن
قبلہ معلوم کرنے کا ایک ایسا طریقہ موجود ہے جس میں نہ قطب نما چاہیے، نہ ایپ، نہ انٹرنیٹ۔ اس پر دھات اثر نہیں کرتی اور کیلبریشن کی غلطی ممکن نہیں۔ صرف ایک سیدھی کھڑی چیز، دھوپ، اور گھڑی کی درستی درکار ہے۔
بنیادی خیال
کعبہ 21.4225 درجے شمالی عرض پر ہے۔ سال میں دو بار سورج کا میلان اسی قدر ہو جاتا ہے، اور ان دنوں مکہ کے مقامی دوپہر کے وقت سورج بالکل کعبہ کے اوپر، سمتُ الرأس پر ہوتا ہے۔ اس لمحے دنیا میں جہاں بھی دن ہو، سورج کی طرف رخ کرنا کعبہ کی طرف رخ کرنا ہے۔ اس لیے کسی سیدھی کھڑی چیز کا سایہ بالکل قبلہ کے مخالف سمت میں گرے گا۔ نہ کوئی فارمولا، نہ نقشہ، نہ مقناطیسی انحراف — آپ خود ہندسہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
پاکستان کے لیے تاریخ اور وقت
یہ کیفیت تقریباً 27 سے 28 مئی اور 15 سے 16 جولائی کو پیش آتی ہے۔ مکہ میں شمسی دوپہر ان تاریخوں میں بالترتیب 12:18 اور 12:27 بجے سعودی وقت پر ہوتی ہے۔ سعودی عرب UTC+3 پر ہے اور پاکستان UTC+5 پر، یعنی دو گھنٹے آگے۔ چنانچہ پاکستان میں یہ لمحہ 28 مئی کو دوپہر 2:18 بجے اور 16 جولائی کو 2:27 بجے آتا ہے۔ ہم نے کراچی کے لیے تصدیق کی: دونوں مواقع پر سورج بلند ہے، کیونکہ ان دنوں غروب بالترتیب 7:15 اور 7:24 بجے ہوتا ہے۔ یعنی پورے پاکستان میں یہ طریقہ آرام سے قابلِ عمل ہے۔
طریقہ کار
ایسی جگہ منتخب کریں جس کا فرش واقعی ہموار ہو۔ کوئی سیدھی چیز کھڑی کریں — ڈنڈا، پائپ، یا لٹکا ہوا ساہل — اور یقینی بنائیں کہ وہ بالکل عمودی ہے، کیونکہ سب سے عام غلطی یہی ہوتی ہے۔ اپنی گھڑی کو سرکاری وقت سے ملا لیں؛ پانچ منٹ کی غلطی ایک درجے سے زیادہ کا انحراف پیدا کر دیتی ہے۔ عین وقت پر سائے کی لکیر پر نشان لگائیں۔ وہ لکیر قبلہ کے مخالف سمت دکھاتی ہے؛ یعنی قبلہ سائے کے سرے سے چیز کی جڑ کی طرف ہے۔ اس لکیر کو فرش پر کھینچ لیں اور آپ کے پاس وہ سمت موجود ہے جس پر مزید سوال نہیں رہتا۔
اگر ایک دو دن آگے پیچھے ہو جائے
سورج کا میلان اپنی انتہا کے قریب آہستہ حرکت کرتا ہے، اس لیے ان تاریخوں سے ایک دن پہلے یا بعد بھی انحراف بہت کم رہتا ہے — موبائل قطب نما کی عام غلطی سے کہیں کم۔ اگر عین دن بادل ہوں تو اگلے دن کوشش کرنا بھی قطب نما پر انحصار سے بہتر ہے۔
دنیا کے دوسرے حصوں میں
یہ طریقہ ہر اس جگہ کام کرتا ہے جہاں اس لمحے دن ہو۔ ڈھاکہ میں یہ وقت 3:18 اور 3:27 بجے، جکارتہ میں 4:18 اور 4:27 بجے، قاہرہ میں 12:18 اور 12:27 بجے آتا ہے۔ مگر انڈونیشیا کے مشرقی حصے میں، مثلاً جے پورہ میں، اس وقت سورج غروب ہو چکا ہوتا ہے، اس لیے وہاں یہ طریقہ ممکن نہیں۔
حساب سے ملا کر دیکھیں
سایہ آپ کو فرش پر ایک عملی لکیر دیتا ہے مگر سال میں صرف دو بار۔ بڑے دائرے کا حساب ہر وقت عدد دیتا ہے۔ دونوں کو متفق ہونا چاہیے، اور یہی اس کی افادیت ہے: تصدیق کے لیے سایہ، روزمرہ کے لیے حساب۔ اس ویب سائٹ پر آپ کے شہر کا اصل زاویہ موجود ہے، جسے آپ اپنی کھینچی ہوئی لکیر سے ملا سکتے ہیں۔