2026-09-12
پاکستان میں نماز کے اوقات کیسے نکالے جاتے ہیں؟
پاکستان میں اگر آپ دو مختلف نماز ایپس ساتھ رکھ کر دیکھیں تو اکثر اوقات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کبھی دو منٹ کا فرق، کبھی ایک گھنٹے کا۔ یہ کسی ایپ کی خرابی نہیں۔ نماز کے اوقات دیکھ کر نہیں بلکہ سورج کی پوزیشن سے حساب لگا کر نکالے جاتے ہیں، اور اس حساب میں کئی مقامات پر مختلف ادارے مختلف اعداد رکھتے ہیں۔ یہ مضمون بتاتا ہے کہ وہ مقامات کون سے ہیں اور فرق اصل میں کتنا ہوتا ہے۔
فجر اور عشاء: دو زاویے جو سب کچھ طے کرتے ہیں
ظہر، عصر اور مغرب کا تعلق سورج کی اس حالت سے ہے جو آنکھ دیکھ سکتی ہے — سورج بلند ترین مقام پر، سائے کی لمبائی، سورج کا غروب۔ فجر اور عشاء ایسے نہیں۔ ان کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ سورج افق سے کتنا نیچے ہے، اور یہ عدد ایک انتخاب ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ رائج طریقہ جامعہ کراچی کا ہے، جو فجر کے لیے 18 درجے اور عشاء کے لیے بھی 18 درجے لیتا ہے۔ رابطہ عالم اسلامی 18 اور 17 لیتی ہے، مصر کا ادارہ 19.5 اور 17.5، شمالی امریکہ کی اسنا 15 اور 15۔ ایک درجے کا فرق پاکستان میں موسم کے لحاظ سے چار سے سات منٹ بنتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ پاکستان کے لیے کیا استعمال کرتی ہے
ہم پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور افغانستان کے لیے جامعہ کراچی کا طریقہ استعمال کرتے ہیں، یعنی فجر 18 اور عشاء 18 درجے، کیونکہ برصغیر میں زیادہ تر مطبوعہ نقشہ جات اسی پر مبنی ہیں۔ عصر کے لیے حنفی پیمانہ استعمال ہوتا ہے، جس کی تفصیل ہم نے الگ مضمون میں بیان کی ہے۔ ہر نماز جدول کے نیچے لکھا ہوتا ہے کہ کون سا طریقہ استعمال ہوا، تاکہ آپ کو معلوم رہے کہ عدد کہاں سے آیا۔
احتیاطی منٹ
خالص حساب وہ لمحہ دیتا ہے جس میں وقت داخل ہوتا ہے۔ بہت سے ادارے اس پر چند منٹ کی احتیاط کا اضافہ کرتے ہیں، تاکہ جدول پورے شہر کے لیے محفوظ رہے — ایک شہر دسیوں کلومیٹر تک پھیلا ہوتا ہے جبکہ جدول ایک نقطے کے لیے چھپتا ہے۔ ترکی میں اسے تمکین کہتے ہیں، انڈونیشیا میں احتیاط۔ ہمارے پاکستانی حساب میں صرف ظہر پر ایک منٹ کا معمولی اضافہ ہے، جو خود حساب کی گول کرنے کی گنجائش ہے، کوئی ادارہ جاتی احتیاط نہیں۔
مسجد کا جدول اور ایپ مختلف کیوں ہیں
دو منٹ تک کا فرق عام بات ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی ایک غلط ہے۔ لیکن اگر فرق ایک گھنٹے کے قریب ہو اور صرف عصر میں ہو، تو یہ حساب کی غلطی نہیں بلکہ سائے کے پیمانے کا فرق ہے۔ اور اگر فرق فجر اور عشاء میں پندرہ بیس منٹ ہو جبکہ باقی اوقات ملتے ہوں، تو وجہ زاویے کا انتخاب ہے۔ فرق کا انداز خود بتا دیتا ہے کہ وہ کہاں سے آ رہا ہے۔
عملی مشورہ
اگر آپ کسی خاص مسجد میں باجماعت نماز پڑھتے ہیں تو اسی مسجد کا جدول آپ کا عملی پیمانہ ہے، کم از کم اس لیے کہ جماعت نہ چھوٹے۔ گھر پر تنہا پڑھتے ہوں تو اپنی جماعت کے رائج طریقے پر رہنا فطری ہے۔ چند منٹ کے فرق میں محتاط پہلو ایک سادہ عادت ہے: فجر میں پہلا وقت، افطار میں بعد والا وقت۔