2026-09-12
مسجد کے قبلہ کی جانچ: کتنا انحراف قابلِ قبول ہے
بہت سی مساجد اور گھر اس وقت بنے جب درست پیمائش آسان نہ تھی۔ قبلہ اکثر سادہ قطب نما سے، یا محض پہلے سے موجود عمارت کے رخ کو دیکھ کر طے کر لیا گیا۔ بعد میں جب حساب سے جانچا جائے تو چند درجوں کا فرق نکل آنا غیر معمولی نہیں۔ یہ مضمون جانچ کا طریقہ اور نتیجے کو سمجھنے کا انداز بیان کرتا ہے۔
انحراف کتنی دور لے جاتا ہے
کراچی سے کعبہ 2,801 کلومیٹر ہے اور وہاں ایک درجے کا انحراف مکہ کے پاس تقریباً 47 کلومیٹر بنتا ہے۔ پانچ درجے تقریباً 236 کلومیٹر۔ لاہور سے، جہاں فاصلہ 3,597 کلومیٹر ہے، ایک درجہ 59 کلومیٹر اور پانچ درجے تقریباً 297 کلومیٹر۔ یہ اعداد ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ یہ سمجھانے کے لیے ہیں کہ لوگ چند درجوں کی بات کیوں کرتے ہیں۔
مگر مطلوب سمت ہے، کامل درستی نہیں
فقہ میں عینِ کعبہ اور جہتِ کعبہ کا فرق واضح ہے۔ جو کعبہ کو دیکھ سکے وہ عمارت کی طرف رخ کرے، جو نہ دیکھ سکے وہ سمت کی طرف۔ ہزاروں کلومیٹر دور رہنے والوں کے لیے یہی دوسری صورت ہے، اور اسی لیے چند درجوں کا انحراف نماز کو نقصان نہیں دیتا۔ چنانچہ اگر معلوم ہو کہ آپ کی مسجد تین درجے ہٹی ہوئی ہے تو یہ پریشانی کی بات نہیں، اور عمارت گرانے کی تو بالکل نہیں۔ عام طور پر جو کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ فرش پر صفوں کی لکیریں چند درجے گھما دی جاتی ہیں۔
جانچ کا سب سے مضبوط طریقہ
سب سے قابلِ اعتماد طریقہ سورج کے سائے والا ہے، یعنی 28 مئی اور 16 جولائی کو مقررہ لمحے پر سائے کی لکیر کھینچنا۔ اس پر دھات اثر نہیں کرتی اور کیلبریشن کا سوال نہیں۔ پاکستان میں یہ وقت بالترتیب دوپہر 2:18 اور 2:27 بجے آتا ہے، اور ہم نے تصدیق کی ہے کہ ان اوقات میں سورج پورے ملک میں بلند ہوتا ہے۔
قطب نما سے جانچتے وقت
اگر آپ کو ان تاریخوں کا انتظار منظور نہ ہو تو قطب نما سے جانچ ممکن ہے، مگر دو باتیں یاد رکھیں۔ پہلی، مقناطیسی انحراف کا حساب رکھیں: پاکستان میں یہ ایک سے تین درجے مشرق ہے، یعنی قطب نما کا عدد اصل زاویے سے اتنا کم آتا ہے۔ دوسری، پیمائش مسجد کے صحن میں کھلی جگہ پر کریں، لوہے کے دروازوں، سریے والی دیواروں اور کھڑی گاڑیوں سے دور، ورنہ نتیجہ دس درجے تک بھٹک سکتا ہے۔
اگر بڑا انحراف نکلے
دس درجے سے زیادہ کا انحراف عام طور پر یہ بتاتا ہے کہ سمت شروع ہی میں غلط طریقے سے طے ہوئی تھی، نہ کہ آلے کی معمولی خامی۔ ایسی صورت میں مناسب یہ ہے کہ پہلے سائے والے طریقے سے نتیجہ پکا کر لیا جائے، پھر انتظامیہ سے بات کی جائے۔ ایک شخص کی موبائل پیمائش صفیں بدلوانے کے لیے شاذ و نادر ہی کافی سمجھی جاتی ہے، جبکہ سب کے سامنے کھینچی گئی سائے کی لکیر کہیں زیادہ آسانی سے قبول ہوتی ہے۔