عصر کا وقت: دو جدول جن میں ایک گھنٹے کا فرق ہوتا ہے

پانچوں نمازوں میں عصر واحد وقت ہے جس میں دو درست جدولوں کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے کا فرق ہو سکتا ہے۔ وجہ نہ زاویہ ہے نہ احتیاط، بلکہ سائے کو ناپنے کا پیمانہ۔

دو پیمانے

عصر کا تعلق کسی کھڑی چیز کے سائے کی لمبائی سے ہے۔ پیمائش کا آغاز زوال کے وقت کے سائے سے ہوتا ہے، جسے سایہ اصلی کہتے ہیں۔ احناف کے ہاں عصر اس وقت داخل ہوتی ہے جب سایہ اصلی کے علاوہ دو مثل ہو جائے۔ شوافع، مالکیہ اور حنابلہ کے ہاں ایک مثل پر داخل ہو جاتی ہے۔ دونوں انہی روایات کی تعبیر ہیں اور دونوں کے پیچھے صدیوں کا علمی کام ہے۔

پاکستان میں فرق کتنا بنتا ہے

ہم نے 9 فروری 2027 کے لیے حساب لگایا۔ کراچی میں ایک مثل کا وقت 3:59 بجے بنتا ہے اور دو مثل کا 4:46 بجے — سینتالیس منٹ کا فرق۔ لاہور میں 3:21 اور 4:06، یعنی پینتالیس منٹ۔ پشاور میں 3:29 اور 4:13۔ اسلام آباد میں 3:24 اور 4:08۔ موسم کے ساتھ یہ فرق بدلتا ہے: کراچی میں 21 جون کو یہی فرق بڑھ کر اکیاسی منٹ ہو جاتا ہے، کیونکہ گرمیوں میں سورج بلند ہوتا ہے اور سایہ اصلی چھوٹا ہوتا ہے۔

ہم پاکستان کے لیے کون سا پیمانہ استعمال کرتے ہیں

پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان، وسطی ایشیا اور روس میں ہماری ویب سائٹ حنفی پیمانہ یعنی دو مثل استعمال کرتی ہے، کیونکہ ان خطوں میں رائج جدول اسی پر ہیں۔ انڈونیشیا، مصر، مراکش اور خلیجی ممالک میں ایک مثل استعمال ہوتا ہے۔ ہر ملک کے صفحے پر یہ بات کھلے طور پر لکھی ہوتی ہے، عصر کے سائے والی سطر میں۔

ترکی ایک دلچسپ استثنا ہے

ترکی حنفی اکثریت کا ملک ہے، مگر دیانت کا سرکاری جدول عصر کے لیے ایک مثل پر مبنی ہے۔ اس لیے ہماری ویب سائٹ ترکی کے لیے حنفی پیمانہ استعمال نہیں کرتی — اگر کرتی تو نتیجہ سرکاری جدول سے ایک گھنٹہ مختلف ہوتا۔ یہ اچھی مثال ہے کہ فقہی اکثریت اور سرکاری حساب ہمیشہ ایک چیز نہیں ہوتے۔

اپنے جدول کو پہچاننا

اگر آپ کی مسجد کا عصر ایپ سے تقریباً پون گھنٹہ بعد ہے اور باقی چار اوقات ایک دو منٹ کے اندر ہیں، تو معاملہ صاف ہے: یہ پیمانے کا فرق ہے، غلطی نہیں۔ اس صورت میں عام طور پر اپنی جماعت کے رائج معمول پر رہنا ہی مناسب سمجھا جاتا ہے۔

→ قبلہ کی سمت — لائیو قبلہ کمپاس